مسند الإمام الشافعي
كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة— قریش وغیرہ کے فضائل اور متفرق ابواب کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ باب: کثرت سے سوالات کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1799
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يَكُنْ يَعْنِي مُحَرَّمًا فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ" .حافظ محمد فہد
عامر بن سعد نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بے شک مسلمانوں میں سے سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق پوچھا جو حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام بنا دی گئی۔“