حدیث نمبر: 1788
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ بِالْجَابِيَةِ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا كَقِيَامِي فِيكُمْ، فَقَالَ: "أَكْرِمُوا أَصْحَابِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَحْلِفُ وَلَا يُسْتَحْلَفُ وَيَشْهَدُ وَلَا يُسْتَشْهَدُ أَلَا فَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْكُنَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْفَذِّ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ" . أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
حافظ محمد فہد

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے جس طرح میں کھڑا ہوں اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ کی عزت کرو، پھر ان لوگوں کی جو ان کے قریب ہیں (تابعین)، پھر ان لوگوں کی جو ان کے قریب ہیں (تبع تابعین)، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ ایک شخص (خود بخود) قسم اٹھائے گا اور اس سے قسم طلب نہیں کی جائے گی، اور وہ گواہی دے گا جبکہ اس سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی۔ خبردار! جس شخص کو جنت کی درمیانی جگہ میں رہنا پسند ہے وہ جماعت کے ساتھ ملا رہے، بلاشبہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہے، جبکہ شیطان دو آدمیوں سے (ان کے اتحاد کی بدولت) دور ہوتا ہے، اور کوئی شخص کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے کیونکہ (اس وقت) شیطان ان کے ساتھ تیسرا ہوتا ہے، اور جس کو اس کی نیکی پسند آئے اور برائی غمزدہ کرے تو وہ مومن ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة / حدیث: 1788
تخریج حدیث أخرجه الترمذى الفتن، باب ماجاء في لزوم الجماعة (2165) وقال حسن صحيح - وابن ماجة ، الشهادات باب كراهية الشهادة لمن لم يستشهد (2363) وصححه ابن حبان۔