مسند الإمام الشافعي
كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة— قریش وغیرہ کے فضائل اور متفرق ابواب کا بیان
بَابٌ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ باب: انصار (بی بی) کی فضیلت کا بیان .
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ رَجُلٍ سَمَّاهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ" . وَقَالَ الْجُرْجَانِيُّ فِي حَدِيثِهِ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ" وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ بَهَشَ إِلَيْهِ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ مِنَ الْأَنْصَارِ؛ فَرَقَّ لَهُمْ ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ هَذِهِ الْمَقَالَةِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ وَفَضَائِلِ قُرَيْشٍ.انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی (آخری) بیماری میں باہر تشریف لائے تو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی پھر فرمایا: ”انصار نے جو ذمہ داریاں ان پر تھیں وہ پوری کی ہیں، اور ان کا بدلہ تم پر باقی ہے۔ اس لیے تم ان کے نیک لوگوں کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرنا۔“ جرجانی نے اپنی حدیث میں کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انصار کو بخش دے اور انصار کے بیٹوں کو بھی، اور انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کو بھی۔“ اور اپنی حدیث میں کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو انصار کی عورتیں اور بچے آپ کے گرد جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے نرمی اختیار کی پھر خطبہ دیا تو یہ باتیں ارشاد فرمائی۔