مسند الإمام الشافعي
كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة— قریش وغیرہ کے فضائل اور متفرق ابواب کا بیان
بَابٌ فِي فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا باب: ابوبکر اور عمر بنی انا کی فضیلت کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَنْزِعُ عَلَى بِئْرٍ أَسْتَقِي، قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي فِي النَّوْمِ وَرُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَجَاءَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَنَزَعَ حَتَّى اسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا فَضَرَبَ النَّاسُ بَعَطَنٍ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرْيَهُ . [ ص: 55 ] أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ وَفَضَائِلِ قُرَيْشٍ، وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبکہ میں کنویں پر (کھڑا ڈول) کھینچ کر پانی نکال رہا ہوں۔“ (امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی نیند میں، اور انبیاء ﷺ کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ابن ابی قحافہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری (تھوڑی مدت) تھی، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر عمر (رضی اللہ عنہ) آئے اور انہوں نے (ڈول) کھینچا، یہاں تک کہ وہ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا ڈول بن گیا اور لوگوں نے حوض سے اپنے اونٹوں کو سیراب کیا، اور میں نے ان جیسا شہ زور نہیں دیکھا جو ان جیسی محنت کر سکے۔“