حدیث نمبر: 1781
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ: أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانَ وَقَعَ بِقُرَيْشٍ، فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَهْلًا يَا قَتَادَةُ، لَا تَشْتُمْ قُرَيْشًا، فَإِنَّكَ لَعَلَّكَ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالًا أَوْ يَأْتِي مِنْهُمْ رِجَالٌ تُحَقِّرُ عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ وَفِعْلَكَ مَعَ فِعَالِهِمْ وَتَغْبِطُهُمْ إِذَا رَأَيْتُهُمْ، لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حافظ محمد فہد

محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت ہے کہ قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے قریش کے بارے میں کچھ سخت کلمات کہے (ایسا لگتا تھا گویا انہیں ان سے کوئی تکلیف پہنچی ہے)۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے قتادہ! ٹھہر جاؤ، صبر کرو، قریش کو برا بھلا نہ کہو، پس بے شک شاید کہ تو ان میں ایسے لوگوں کو دیکھے جن کے اعمال کے سامنے تو اپنے اعمال کو حقیر اور ان کے کاموں کے سامنے اپنے کاموں کو کم سمجھے گا، اور جب تو انہیں دیکھے گا تو ان پر رشک کرے گا۔ اگر قریش سرکشی (ناشکری) نہ کرتے تو میں انہیں وہ بتاتا جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے (جنت میں) ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة / حدیث: 1781
تخریج حدیث اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار 1/ 89 - واحمد: (6/ 384)۔