حدیث نمبر: 1775
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيُّ: عَلَامَ تُؤْخَذُ الْجِزْيَةُ مِنَ الْمَجُوسِ، وَلَيْسُوا بِأَهْلِ كِتَابٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْمُسْتَوْرِدُ، فَأَخَذَ بِلَبَّتِهِ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، تَطْعَنُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي: عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَقَدْ أَخَذُوا مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى الْقَصْرِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اتَّئِدَا، فَجَلَسَا فِي ظِلِّ الْقَصْرِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْمَجُوسِ، كَانَ لَهُمْ عِلْمٌ يَعْلَمُونَهُ، وَكِتَابٌ يَدْرُسُونَهُ، وَإِنَّ مَلِكَهُمْ سَكِرَ، فَوَقَعَ عَلَى ابْنَتِهِ أَوْ أُخْتِهِ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ بَعْضُ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ، فَلَمَّا صَحَا جَاءُوا يُقِيمُونَ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَامْتَنَعَ مِنْهُمْ فَدَعَا أَهْلَ مَمْلَكَتِهِ، فَقَالَ: تَعْلَمُونَ دِينًا خَيْرًا مِنْ دِينِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَدْ كَانَ آدَمُ يُنْكِحُ بَنِيهِ مِنْ بَنَاتِهِ فَأَنَا عَلَى دِينِ آدَمَ، مَا يَرْغَبُ بِكُمْ عَنْ دِينِهِ، فَتَابَعُوهُ وَقَاتَلُوا الَّذِينَ خَالَفُوهُمْ، حَتَّى قَتَلُوهُمْ فَأَصْبَحُوا وَقَدْ أُسْرِيَ عَلَى كِتَابِهِمْ، فَرُفِعَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ وَذَهَبَ الْعِلْمُ الَّذِي فِي صُدُورِهِمْ وَهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، وَقَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الْجِزْيَةَ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْجِزْيَةِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد

نصر بن عاصم نے بیان کیا کہ فروہ بن نوفل اشجعی نے کہا: ”مجوسیوں سے جزیہ کیوں لیا جاتا ہے، وہ اہل کتاب نہیں ہیں۔“ (یہ سن کر) ان کی طرف مستورد کھڑے ہوئے اور انہیں گریبان سے پکڑ کر کہا: ”اے اللہ کے دشمن! تو ابوبکر، عمر اور امیر المومنین (یعنی علی رضی اللہ عنہم) پر طعن کرتا ہے، جبکہ انہوں نے ان (مجوسیوں) سے جزیہ لیا ہے۔“ پھر انہیں قصر (خلافت) کی طرف لے گئے، تو علی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”تم دونوں نرمی برتو۔“ تو وہ دونوں محل کے سائے میں بیٹھ گئے۔ پھر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ مجوسیوں کے بارے میں جاننے والا ہوں۔ ان (مجوسیوں) کے پاس علم تھا جسے وہ جانتے تھے، اور ایک کتاب تھی جسے وہ پڑھتے تھے۔ (ہوا یوں) کہ ان کا بادشاہ نشے میں دھت ہو گیا تو اس نے اپنی بیٹی یا اپنی بہن سے زنا کر لیا، اس بات کا پتا اس کی بادشاہت کے کچھ (سرکردہ) افراد کو لگا۔ جب وہ بیدار ہوا اور لوگ اس پر حد نافذ کرنے کے لیے آئے تو اس نے ان کو روکا اور اپنی مملکت کے سرکردہ افراد کو بلا کر کہا: کیا تم آدم علیہ السلام کے دین سے بہتر کوئی دین جانتے ہو؟ آدم علیہ السلام تو اپنے بیٹوں کا اپنی بیٹیوں سے نکاح کر دیتے تھے، اور میں (بھی تو) آدم علیہ السلام کے دین پر ہوں، تم ان کے دین سے کیوں دور ہو؟ پھر ان لوگوں نے اس کی اتباع کی اور اپنے مخالفین کے ساتھ قتال کیا یہاں تک کہ ان کو قتل کر دیا۔ پھر ان کی حالت یہ ہو گئی کہ ان کی کتاب پر پہرے بٹھا دیے گئے۔ پھر وہ ان سے اٹھا لی گئی، اور ان کے سینوں سے علم ختم ہو گیا، اور وہ اہل کتاب (میں سے) ہیں۔ اور ان سے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے جزیہ لیا ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها / حدیث: 1775
تخریج حدیث اسناده ضعیف لضعف ابي سعد سعيد بن المرزبان، وهو ايضًا مدلس وقد عنعن : اخرجه البيهقي: 9/ 189، 188 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5515) - وعبدالرزاق (10029) وابو يعلى (301)۔