مسند الإمام الشافعي
كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها— قیدیوں، فدیہ اور جزیہ عائد کرنے و وصول کرنے کا بیان
بَابُ الْأَسْرِ وَالْفِدَاءِ باب: قید اور فدیہ لے کر (قیدی) چھوڑنے کا بیان
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ، فَأَوْثَقُوهُ فَطَرَحُوهُ فِي الْحَرَّةِ، فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مَعَهُ أَوْ قَالَ: أَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ، وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ. فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَا شَأْنُكَ" ؟ فَقَالَ: فِيمَ أُخِذْتُ وَفِيمَ أُخِذَتْ سَابِقَةُ الْحَاجِّ؟ قَالَ: أُخِذَتْ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكُمْ ثَقِيفٍ . وَكَانَتْ ثَقِيفٌ أَسَرَتْ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَرَكَهُ وَمَضَى، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، [ ص: 48 ] فَرَحِمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، قَالَ: لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ. قَالَ: فَتَرَكَهُ وَمَضَى، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَإِنِّي عَطْشَانُ فَاسْقِنِي. قَالَ: "هَذِهِ حَاجَتُكَ" . فَفَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَسَرَتْهُمَا ثَقِيفٌ وَأَخَذَ نَاقَتَهُ تِلْكَ.عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو قیدی بنا لیا، تو انہوں نے اس کو رسیوں سے باندھ کر حرہ (مدینہ کی کالی پتھریلی زمین) میں پھینک دیا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس سے گزرے اور ہم آپ کے ساتھ تھے، یا فرمایا: اس کے پاس رسول اللہ ﷺ گدھے پر سوار ہو کر آئے اور اس کے نیچے ایک کمبل تھا۔ اس نے آپ ﷺ کو ”یا محمد! یا محمد!“ کہہ کر آواز دی۔ تو نبی ﷺ اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا شأن ہے؟“ اس نے کہا: ”مجھے کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟ اور حاجیوں کی آگے چلنے والی اونٹنی (عضباء) کو کس قصور میں پکڑا ہے؟“ فرمایا: ”تمہارے حلیف ثقیف کے اقدامات کی وجہ سے گرفتار ہوئی۔“ اور ثقیف نے نبی ﷺ کے دو صحابہ رضی اللہ عنہما کو گرفتار کیا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے چھوڑا اور چلے گئے۔ تو اس نے دوبارہ پکارا: ”یا محمد! یا محمد!“ رسول اللہ ﷺ نے اس پر شفقت کی اور اس کی طرف لوٹے اور پوچھا: ”کیا شأن ہے؟“ اس نے کہا: ”میں مسلمان ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا (یعنی گرفتار نہ تھا) تو تو پوری طرح کامیاب ہو جاتا۔“ پھر آپ ﷺ نے اسے چھوڑا اور چلے گئے، اس نے پھر پکارا: ”یا محمد! یا محمد!“ آپ ﷺ پھر اس کی طرف لوٹے تو اس نے کہا: ”میں بھوکا ہوں، مجھے کھلائیے“۔ راوی کہتے ہیں، میرا خیال ہے اس نے یہ بھی کہا: ”اور میں پیاسا ہوں، مجھے پانی پلائیے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری ضرورت ہے۔“ پھر اسے رسول اللہ ﷺ نے ان دو آدمیوں کے بدلے چھوڑ دیا جن کو ثقیف والوں نے قیدی بنایا تھا، اور اپنی اونٹنی بھی لے لی۔