حدیث نمبر: 1765
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كَانَتْ بَجِيلَةُ رُبُعَ النَّاسِ، فَقَسَّمَ لَهَا رُبُعَ السَّوَادِ. فَاسْتَغَلُّوا ثَلَاثَ أَوْ أَرْبَعَ سِنِينَ، أَنَا شَكَكْتُ ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَعِي فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ قَدْ أَسْمَاهَا، لَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُ اسْمِهَا. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَتَرَكَتْكُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تَرُدُّوا عَلَى النَّاسِ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ السِّيَرِ عَلَى سِيَرِ الْوَاقِدِيِّ، وَهُوَ أَوَّلُ حَدِيثٍ فِيهِ.
حافظ محمد فہد

جریر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ بجیلہ قبیلہ کے لوگ لوگوں کا چوتھائی حصہ تھے لہذا ان کے لیے سواد (سامان) کا بھی چوتھا حصہ تقسیم کیا، تین یا چار سال تک (راوی کہتا ہے) میں نے اس میں شک کیا ہے۔ وہ اسی طرح رہے (یعنی ان کی تعداد زیادہ رہی) پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میرے ساتھ ان میں سے ایک عورت فلانہ بنت فلان تھی۔ راوی کہتا ہے انہوں نے اس کا نام لیا لیکن مجھے اب اس کا نام یاد نہیں۔ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں ایسا تقسیم کرنے والا نہ ہوتا کہ جس سے پوچھ کچھ ہوگی تو میں تمہیں اسی مال پر چھوڑ دیتا جو تمہارے لیے تقسیم کر دیا گیا ہے۔ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ تم (مال کو) لوگوں پر لوٹا دو۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1765
تخریج حدیث صحيح اخرجه البيهقي : 9 / 135 - وفي المعرفة السنن والآثار له (5488) - وابن ابي شيبة (32973) ، (33743)