مسند الإمام الشافعي
كتاب الجهاد وقسم الغنائم— جہاد اور مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان
بَابُ قَسْمِ الْمَغْنَمِ باب: مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ وَرَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ، كِلَاهُمَا عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: لَقِيتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا فَعَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَقِّكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الْخُمُسِ؟ فَقَالَ: عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَّا أَبُو بَكْرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فَلَمْ يَكُنْ فِي زَمَانِهِ أَخْمَاسٌ، وَمَا كَانَ فَقَدْ أَوْفَانَاهُ. وَأَمَّا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعْطِينَاهُ حَتَّى جَاءَهُ مَالُ السُّوسِ وَالْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: الْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: فَارِسَ، أَنَا أَشُكُّ، يَعْنِي الشَّافِعِيَّ، فَقَالَ: فِي [ ص: 40 ] حَدِيثِ مَطَرٍ أَوْ حَدِيثِ الْآخَرِ، فَقَالَ: فِي الْمُسْلِمِينَ خَلَّةٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتُمْ تَرَكْتُمْ حَقَّكُمْ فَجَعَلْنَاهُ فِي خَلَّةِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَأْتِيَنَا مَالٌ فَنُوَفِّيكُمْ حَقَّكُمْ مِنْهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِعَلِيٍّ: أَتُطْمِعُهُ فِي حَقِّنَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْفَضْلِ أَلَسْنَا أَحَقَّ مَنْ أَجَابَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَفَعَ خَلَّةَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَتُوُفِّيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُ مَالٌ فَيَقْضِينَاهُ. وَقَالَ: الْحَكَمُ فِي حَدِيثِ مَطَرٍ وَالْآخَرِ: إِنَّ عُمَرَ قَالَ: لَكُمْ حَقٌّ: وَلَا يَبْلُغُ عِلْمِي إِذْ كَثُرَ أَنْ يَكُونَ لَكُمْ كُلُّهُ فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْتُكُمْ مِنْهُ بِقَدَرِ مَا أَرَى لَكُمْ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ إِلَّا كُلَّهُ فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَنَا.عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ میں علی رضی اللہ عنہ سے احجار الزیت (یہ مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے) کے پاس ملا تو میں نے ان سے پوچھا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے تم اہل بیت کے خمس کے حق کا کیا کیا؟“ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے، اللہ ان پر رحم کرے، ان کے عہد میں خمس (کے نئے اموال) نہیں تھے، اور جو کچھ (پہلے سے) تھا اس سے انہوں نے ہمیں پورا پورا دیا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ بھی ہمیں ہمیشہ دیتے رہے حتیٰ کہ ان کے پاس سوس اور اہواز کا مال آیا (یا فرمایا: اہواز یا فارس، امام شافعی کو شک ہے)۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب مسلمانوں میں مفلسی ہے، اگر تم چاہو تو تم اپنا حق چھوڑ دو اور ہم اسے مسلمانوں کی محتاجی دور کرنے میں صرف کر دیں یہاں تک کہ ہمارے پاس پھر مال آئے اور ہم اس سے تمہارا حق پورا کر دیں۔“ تو عباس رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ انہیں ہمارے حق پر طمع دلاتے ہیں؟“ تو میں نے ان سے کہا: ”اے ابوالفضل! کیا ہم اس کے زیادہ حق دار نہیں کہ امیر المومنین کی بات مانیں اور مسلمانوں کی مفلسی دور کریں؟“ پھر عمر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اس سے پہلے کہ ان کے پاس مال آتا اور وہ ہمیں ادائیگی کرتے۔ حکم اور ایک دوسرے راوی نے حدیثِ مطر میں فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے لیے حق ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ جب یہ مال بہت زیادہ ہو جائے تو کیا وہ سارے کا سارا تمہارے لیے ہے؟ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اتنا دیتا ہوں جتنا میں تمہارا حق خیال کرتا ہوں۔“ (علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا) ہم نے انکار کیا مگر یہ کہ ہمیں سارا دیا جائے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ہمیں دینے سے انکار کر دیا۔