مسند الإمام الشافعي
كتاب الجهاد وقسم الغنائم— جہاد اور مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان
بَابُ قَسْمِ الْمَغْنَمِ باب: مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ كَانَ يَضْرِبُ فِي الْمَغْنَمِ بِأَرْبَعَةِ أَسْهُمٍ: سَهْمٍ لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ وَسَهْمٍ فِي ذِي الْقُرْبَى. قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، بِسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى سَهْمَ صَفِيَّةَ أُمِّهِ، وَقَدْ شَكَّ سُفْيَانُ، أَحْفَظُهُ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى سَمَاعًا، وَلَمْ يَشُكَّ سُفْيَانُ أَنَّهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى هُوَ وَلَا غَيْرُهُ مِمَّنْ حَفِظَهُ عَنْ هِشَامٍ.يحيى بن عباد بن عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زبیر بن العوام غنیمت میں چار حصے لیتے تھے۔ ایک حصہ ان کا، دو حصے ان کے گھوڑے کے، اور ایک حصہ ذی القربی (رشتہ دار) کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی، اور اللہ خوب جانتے ہیں۔ قرابت کے حصے سے مراد ان کی ماں صفیہ رضی اللہ عنہا کا حصہ ہے۔ سفیان کو اس میں شک ہوا ہے کہ آیا اس نے یہ بات ہشام سے سماعاً (سن کر) یاد کی ہے۔ سفیان کو یہ شک نہیں ہوا کہ یہ ہشام کی یحیی کے واسطے سے حدیث ہے نہ انہیں نہ ان کے علاوہ کسی کو جس نے ہشام سے یاد کیا۔