حدیث نمبر: 1739
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: حَاصَرْنَا تُسْتَرَ فَنَزَلَ الْهُرْمُزَانُ عَلَى [ ص: 31 ] حُكْمِ عُمَرَ، فَقَدِمْتُ بِهِ عَلَى عُمَرَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَكَلَّمْ، قَالَ: كَلَامَ حَيٍّ أَوْ كَلَامَ مَيِّتٍ، قَالَ: تَكَلَّمْ، لَا بَأْسَ. قَالَ: إِنَّا وَإِيَّاكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ مَا خَلَّى اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، وَكُنَّا نَتَعَبَّدُكُمْ وَنَقْتُلُكُمْ وَنُغْضِبُكُمْ، فَلَمَّا كَانَ اللَّهُ مَعَكُمْ لَمْ تَكُنْ لَنَا بِكُمْ يَدَانِ. فَقَالَ عُمَرُ: مَا تَقُولُ؟ . فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تَرَكْتُ بَعْدِي عَدُوًّا كَثِيرًا وَشَوْكَةً شَدِيدَةً، فَإِنْ قَتَلْتَهُ يَيْئَسِ الْقَوْمُ الْحَيَاةَ، وَيَكُنْ أَشَدَّ لِشَوْكَتِهِمْ. فَقَالَ عُمَرُ: أَسْتَحْيِي قَاتِلَ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ وَمَجْزَأَةَ بْنِ ثَوْرٍ، فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَقْتُلَهُ قُلْتُ لَهُ: لَيْسَ إِلَى قَتْلِهِ سَبِيلٌ، قَدْ قُلْتَ لَهُ: تَكَلَّمْ لَا بَأْسَ، فَقَالَ عُمَرُ: ارْتَشَيْتَ وَأَصَبْتَ مِنْهُ. فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا ارْتَشَيْتُ وَلَا أَصَبْتُ مِنْهُ، قَالَ: لِتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا شَهِدْتَ بِهِ بِغَيْرِكَ، أَوْ لَأَبْدَأَنَّ بِعُقُوبَتِكَ. قَالَ: فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، فَشَهِدَ مَعِي، وَأَمْسَكَ عُمَرُ، وَأَسْلَمَ وَفَرَضَ لَهُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ.
حافظ محمد فہد

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے تستر قلعے کا محاصرہ کیا، ہرمزان عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر اترا تو میں اسے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: بات کرو۔ اس نے کہا: زندہ (یعنی دلیر) آدمی کی طرح بات کروں یا مردہ (یعنی بزدل) آدمی کی طرح؟ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بات کرو تمہیں کوئی اندیشہ نہیں ہے (یعنی جو کچھ کہنا چاہتے ہو بلا خوف و خطر کہو)۔ وہ کہنے لگا: ہم اور آپ عرب کے باشندے ہیں مگر اللہ نے ہمارے اور تمہارے درمیان فرق رکھا ہے، ہم تمہیں غلام بنایا کرتے تھے اور تمہیں قتل کیا کرتے اور تمہارا مال غصب کر لیا کرتے تھے، جب اللہ تمہارے ساتھ ہو گیا تو ہم کمزور ہو گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے اپنے بعد بہت زیادہ دشمن اور طاقت چھوڑی ہے، اگر آپ اس کو قتل کر دیں گے تو لوگ زندگی سے ناامید ہو جائیں گے اور اس طرح ان کی طاقت (مزید) بڑھ جائے گی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں براء بن مالک اور مجزاہ بن ثور کے قاتل کو زندہ چھوڑ دوں؟ جب میں نے ڈرا کہ وہ اسے قتل کر دیں گے تو میں نے کہا: اس کے قتل کی اب کوئی گنجائش نہیں، آپ نے اسے کہا ہے کہ ”بات کرو تمہیں کوئی اندیشہ نہیں ہے“۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نے اس سے رشوت لی ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہ میں نے رشوت لی ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو تم نے گواہی دی ہے اس پر اپنے علاوہ کوئی اور گواہ بھی پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ میں وہاں سے نکلا تو مجھے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ملے، انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل نہ کیا، وہ بعد میں مسلمان ہو گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا وظیفہ مقرر کر دیا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1739
تخریج حدیث اخرجه البيهقي : 9 / 96 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5428) وابن ابي شيبة (33402)۔