مسند الإمام الشافعي
كتاب الجهاد وقسم الغنائم— جہاد اور مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان
بَابُ الْحِصَارِ وَالنُّزُولِ عَلَىٰ حُكْمِ الْإِمَامِ باب: محاصرہ اور امام (حاکم) کے فیصلے پر (قلعے سے) نیچے اترنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَهُ: إِذَا حَاصَرْتُمُ الْمَدِينَةَ كَيْفَ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: نَبْعَثُ الرَّجُلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَنَصْنَعُ لَهُ هَنَةً مِنْ جُلُودٍ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ رُمِيَ بِحَجَرٍ؟ قَالَ: إِذًا يُقْتَلُ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ تَفْتَحُوا مَدِينَةً فِيهَا أَرْبَعَةُ آلَافِ مُقَاتِلٍ بِتَضْيِيعِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: جب تم شہر کا محاصرہ کر لو تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا: ہم ایک آدمی کو چمڑے کا لباس پہنا کر شہر کی طرف بھیجیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر اسے کوئی پتھر مار دے تو؟ انہوں نے کہا: تب وہ قتل ہو جائے گا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم اس طرح نہ کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے پسند نہیں کہ تم ایک مسلمان کے ضیاع کے بدلے میں ایک ایسا شہر فتح کرو جس میں چار لڑنے والے آدمی ہوں۔