حدیث نمبر: 1738
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَهُ: إِذَا حَاصَرْتُمُ الْمَدِينَةَ كَيْفَ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: نَبْعَثُ الرَّجُلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَنَصْنَعُ لَهُ هَنَةً مِنْ جُلُودٍ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ رُمِيَ بِحَجَرٍ؟ قَالَ: إِذًا يُقْتَلُ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ تَفْتَحُوا مَدِينَةً فِيهَا أَرْبَعَةُ آلَافِ مُقَاتِلٍ بِتَضْيِيعِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ.
حافظ محمد فہد

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: جب تم شہر کا محاصرہ کر لو تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا: ہم ایک آدمی کو چمڑے کا لباس پہنا کر شہر کی طرف بھیجیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر اسے کوئی پتھر مار دے تو؟ انہوں نے کہا: تب وہ قتل ہو جائے گا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم اس طرح نہ کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے پسند نہیں کہ تم ایک مسلمان کے ضیاع کے بدلے میں ایک ایسا شہر فتح کرو جس میں چار لڑنے والے آدمی ہوں۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1738
تخریج حدیث اسناده ضعيف، لعنعنة حميد بن أبي حميد الطويل : اخرجه البيهقي : 42/9 وفي المعرفة السنن والآثار له (5326)۔