مسند الإمام الشافعي
كتاب الجهاد وقسم الغنائم— جہاد اور مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان
بَابُ الْمُصَابِ مِنْ نِسَاءِ الْمُشْرِكِينَ وَذَرارِيهِمْ باب: مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1737
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَبِيتُونَ فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُمْ مِنْهُمْ" ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فِي الْحَدِيثِ: "هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ" . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ.حافظ محمد فہد
صعب بن جثامہ اللیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ مشرکین کے گھر والوں کا کیا حکم ہے جبکہ ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو چھوٹے بچے اور عورتیں بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ انہیں میں سے ہیں۔“ بعض اوقات سفیان رحمہ اللہ نے حدیث میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ ”وہ اپنے آباء میں سے ہیں۔“