مسند الإمام الشافعي
كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات— فیصلہ سازی، احکام، دعوے، ثبوت، گواہ کے ساتھ قسم اور شہادتوں کا بیان
بَابُ مَوْضِعِ الْيَمِينِ وَوَقْتِهَا باب: قسم اٹھانے کی جگہ اور وقت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ الْمُرِّيَّ قَالَ: اخْتَصَمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ مُطِيعٍ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فِي دَارٍ، فَقَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ زَيْدٌ: أَحْلِفُ لَهُ مَكَانِي. قَالَ مَرْوَانُ: لَا وَاللَّهِ إِلَّا عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ، فَجَعَلَ زَيْدٌ يَحْلِفُ أَنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ، وَيَأْبَى أَنْ يَحْلِفَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَجَعَلَ مَرْوَانُ يَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ مَالِكٌ: كَرِهَ زَيْدٌ صَبْرَ الْيَمِينِ.ابو غطفان المری نے بیان فرمایا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ابن مطیع نے اپنے ایک (مشترکہ) گھر کے جھگڑے کا مقدمہ مروان بن حکم کے سامنے رکھا، تو مروان نے اس بات پر فیصلہ دیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ منبر پر قسم کھائیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اپنی جگہ پر ہی قسم کھاؤں گا۔“ مروان نے کہا: ”نہیں اللہ کی قسم! وہیں قسم کھاؤ جہاں لوگوں کے فیصلے ہوتے ہیں (یعنی منبر پر)۔“ تو زید رضی اللہ عنہ یہ قسم کھاتے تھے کہ میں سچا ہوں لیکن منبر پر قسم کھانے سے انکار کرتے تھے اور مروان کو اس بات پر تعجب ہوتا تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زید رضی اللہ عنہ نے زبردستی قسم لینے کو ناپسند کیا ہے۔