حدیث کتب › مسند الإمام الشافعي › كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات
مسند الإمام الشافعي
كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات— فیصلہ سازی، احکام، دعوے، ثبوت، گواہ کے ساتھ قسم اور شہادتوں کا بیان
بَابُ قَبُولِ شَهَادَةِ الْقَاذِفِ إِذَا تَابَ باب: توبہ کر لینے کے بعد قاذف (تہمت لگانے والے) کی گواہی قبول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1705
وَأَخْبَرَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا جَلَدَ الثَّلَاثَةَ اسْتَتَابَهُمْ، فَرَجَعَ اثْنَانِ فَقَبِلَ شَهَادَتَهُمَا وَأَبَى أَبُو بَكْرَةَ أَنْ يَرْجِعَ فَرَدَّ شَهَادَتَهُ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ وَقَوْلَ الشَّافِعِيِّ مِنْ كِتَابِ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ.حافظ محمد فہد
سعيد بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تین آدمیوں کو حدِ قذف لگائی تو ان سے توبہ کروائی، ان میں سے دو نے رجوع کر لیا تو ان دونوں کی شہادت کو قبول کیا، جبکہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے رجوع سے انکار کر دیا تو ان کی گواہی کو بھی رد کر دیا۔