حدیث کتب › مسند الإمام الشافعي › كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات
مسند الإمام الشافعي
كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات— فیصلہ سازی، احکام، دعوے، ثبوت، گواہ کے ساتھ قسم اور شہادتوں کا بیان
بَابُ قَبُولِ شَهَادَةِ الْقَاذِفِ إِذَا تَابَ باب: توبہ کر لینے کے بعد قاذف (تہمت لگانے والے) کی گواہی قبول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1704
أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ فَلَمَّا قُمْتُ سَأَلْتُ، فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، وَحَضَرَ الْمَجْلِسَ مَعِي: هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ لِسُفْيَانَ: أَشَكَكْتَ حِينَ أَخْبَرَكَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: لَا هُوَ كَمَا قَالَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ دَخَلَنِي الشَّكُّ.حافظ محمد فہد
ہمیں سفیان بن عیینہ نے خبر دی انہوں نے کہا مجھے زہری نے خبر دی۔ پھر جب ہم (مجلس سے) کھڑے ہوئے تو مجھے عمر بن قیس نے کہا جو میرے ساتھ مجلس میں موجود تھے کہ وہ سعید بن مسیب ہیں۔ میں نے سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا: ”کیا سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے جب آپ کو خبر دی اسی وقت آپ کو شک لاحق ہوا؟“ فرمایا: ”نہیں وہ اسی طرح ہی ہے جس طرح انہوں نے فرمایا البتہ انہوں نے مجھے شک میں ڈال دیا۔“