مسند الإمام الشافعي
كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات— فیصلہ سازی، احکام، دعوے، ثبوت، گواہ کے ساتھ قسم اور شہادتوں کا بیان
بَابُ قَبُولِ شَهَادَةِ الْقَاذِفِ إِذَا تَابَ باب: توبہ کر لینے کے بعد قاذف (تہمت لگانے والے) کی گواہی قبول کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: زَعَمَ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنَّ شَهَادَةَ الْقَاذِفِ لَا تَجُوزُ، فَأَشْهَدُ لَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِي بَكْرَةَ: تُبْ تُقْبَلْ شَهَادَتُكَ أَوْ إِنْ تُبْتَ قُبِلَتْ شَهَادَتُكَ. وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يُحَدِّثُ بِهِ هَكَذَا مِرَارًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: شَكَكْتُ فِيهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَشْهَدُ لَأَخْبَرَنِي فُلَانٌ، ثُمَّ سَمَّى رَجُلًا فَذَهَبَ عَلَيَّ حِفْظُ اسْمِهِ، فَسَأَلْتُ قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ: هُوَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ. وَكَانَ سُفْيَانُ لَا يَشُكُّ أَنَّهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَغَيْرُهُ يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ.سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے سنا انہوں نے فرمایا کہ عراق والے یہ سمجھتے ہیں کہ تہمت لگانے والے کی شہادت جائز نہیں ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تو توبہ کر لے تو تیری گواہی قبول کی جائے گی یا اگر تو توبہ کرتا ہے تو تیری گواہی قبول کی جائے گی۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا، میں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کو کئی دفعہ اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا پھر میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے اس میں شک ہوا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے فلاں نے بتایا، پھر آدمی کا نام لیا جسے میں یاد نہ رکھ سکا تو میں نے ان سے پوچھا تو مجھے عمر بن قیس نے بتایا کہ وہ سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں۔ اور سفیان رحمہ اللہ، سعید بن مسیب کے متعلق شک نہیں کرتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور ان کے علاوہ کوئی اور اسے ابن شہاب سے روایت کرتا ہے وہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اور وہ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔