مسند الإمام الشافعي
كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات— فیصلہ سازی، احکام، دعوے، ثبوت، گواہ کے ساتھ قسم اور شہادتوں کا بیان
بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الزِّنَا باب: زنا پر گواہی (کے نصاب) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ رَجُلًا بِالشَّامِ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ أَوْ قَتَلَهَا، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنْ يَسْأَلَ لَهُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا هُوَ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي، فَأَخْبَرَهُ. فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا أَبُو الْحَسَنِ: إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ أَدَبِ الْقَاضِي، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ.سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ شام میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پایا تو اسے قتل کر دیا یا اس عورت کو قتل کر دیا۔ تو (شام کے حاکم) معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ان کے لیے تم یہ مسئلہ علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو۔ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ واقعہ عراق کی سرزمین میں نہیں ہوا، میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ سچ بیان کرو۔“ پھر انہوں نے حقیقت بتادی، تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ابوالحسن ہوں، اگر وہ چار گواہ نہیں لاتا تو قتل پر راضی ہو جائے۔“