مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
بَابُ الْقَسَامَةِ باب: قسامہ (مقتول کے ورثاء کی قسموں کے ذریعے قاتل کے تعین) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمَا، فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ أَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُ. قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو الْمَقْتُولِ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ: "كَبِّرْ كَبِّرْ" ، يُرِيدُ السِّنَّ. فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ" . فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ. فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: "تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟" . قَالُوا: لَا، قَالَ: "فَتَحْلِفُ يَهُودُ" . قَالُوا: لَا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، فَقَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اور ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے خبر دی کہ عبد اللہ بن سہل بن ابی حثمہ اور محیصہ دونوں خیبر کی طرف مالی مشکلات کی وجہ سے گئے۔ جب وہ دونوں اپنی اپنی ضروریات کے لیے الگ ہوئے تو محیصہ کو خبر آئی کہ عبد اللہ بن سہل تو قتل کر دیے گئے ہیں اور انہیں ایک کنویں یا چشمے کے پاس پھینک دیا گیا ہے۔ محیصہ یہودیوں کے پاس آئے اور ان سے کہا اللہ کی قسم! تم ہی لوگوں نے انہیں قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا، اللہ کی قسم! ہم نے انہیں نہیں مارا۔ پھر محیصہ (خیبر سے لوٹ کر) اپنی قوم والوں کے پاس آئے اور انہیں یہ واقعہ سنایا۔ پھر وہ اور ان کے بڑے بھائی حویصہ اور مقتول کے بھائی عبد الرحمن بن سہل نبی ﷺ کے پاس آئے۔ محیصہ چونکہ خیبر میں اس وقت موجود تھے اس لیے انہوں نے گفتگو شروع کر دی تو رسول اللہ ﷺ نے محیصہ سے فرمایا: ”بڑے کو بات کرنے دو“ یعنی جو عمر میں بڑا ہے۔ پھر حویصہ نے بات کی بعد میں محیصہ نے بات کی، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یا تو وہ تمہارے ساتھی (عبداللہ) کی دیت دیں اور یا پھر انہیں جنگ کا نوٹس دیا جائے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس مقدمہ کے سلسلہ میں لکھا، تو انہوں نے جواب میں لکھا، اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبد الرحمن سے کہا: ”تم قسم کھاؤ تو تمہارے ساتھی کا خون ان پر ثابت ہو جائے گا۔“ انہوں نے کہا، ہم قسم نہیں کھاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہودی قسم کھائیں گے۔“ انہوں نے کہا، نہیں وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے عبد اللہ کی دیت میں سو اونٹنیاں انہیں دے دیں۔ یہاں تک کہ یہ اونٹنیاں ان کے گھر پہنچا دی گئیں۔ سہل نے کہا، ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات دے ماری تھی۔