مسند الإمام الشافعي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
بَابُ مَا لَا قِصَاصَ فِيهِ وَلَا دِيَةَ باب: وہ معاملات جن میں نہ قصاص ہے اور نہ دیت۔
حدیث نمبر: 1673
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهِ رَأَى رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْهِ فَأَهْوَى لَهُ بِمِشْقَصٍ فِي يَدِهِ، كَأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَتَأَخَّرْ لَمْ يُبَالِ أَنْ يَطْعَنَهُ. أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.حافظ محمد فہد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی کو دیکھا جس نے آپ ﷺ کو جھانکا تھا، تو آپ ﷺ نے اس کی طرف تیر کا پھل جھکایا جو آپ کے ہاتھ میں تھا، گویا کہ اگر وہ پیچھے نہ ہٹتا تو آپ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہ تھی کہ اس پھل سے اس کی آنکھ چبھ جاتی۔