حدیث نمبر: 1655
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: أَرْسَلْنَا إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ نَسْأَلُهُ عَنْ دِيَةِ الْمُعَاهِدِ، فَقَالَ: قَضَى فِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ، قَالَ: فَقُلْنَا: فَمَنْ قَتَلَهُ؟ قَالَ: فَحَصَبَنَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: هُمُ الَّذِينَ سَأَلُوهُ آخِرًا.
حافظ محمد فہد

صدقہ بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے فرمایا، ہم نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی طرف ایک پیغام بھیجا، ہم ان سے معاہد (ذمی) کی دیت کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس میں چار ہزار (درہم) کا فیصلہ دیا۔ صدقہ کہتے ہیں ہم نے کہا: ”کس نے اس کو قتل کیا؟“ فرمایا، پھر انہوں نے ہمیں کنکریاں ماریں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخر میں ان سے یہ سوال کیا تھا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1655
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه البيهقى 8 / 100 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4930) وابن ابي شيبة (27455)۔