حدیث نمبر: 1642
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: لَجَأَ قَوْمٌ إِلَى جَعْشَمٍ فَلَمَّا غَشِيَهُمُ الْمُسْلِمُونَ اسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ، فَقَتَلُوا بَعْضَهُمْ، فَبَلَغَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَعْطُوهُمْ نِصْفَ الْعَقْلِ لِصَلَاتِهِمْ" . ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: "أَلَا إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ" . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ؟ قَالَ: "لَا تَتَرَاءَى نَارَاهُمَا" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
حافظ محمد فہد

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، فرمایا: جعشم قبیلہ کے پاس ایک قوم نے پناہ لی، پھر جب مسلمان ان پر غالب آ گئے تو انہوں نے سجدہ کے ذریعے پناہ چاہی، مسلمانوں نے ان کے بعض کو قتل کر دیا۔ جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی نمازوں کی وجہ سے انہیں آدھی دیت دو۔“ پھر اس موقع پر ارشاد فرمایا: ”خبردار! میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے پاس رہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کی کیا وجہ ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں کی آگ (اکٹھی) نظر نہیں آنی چاہیے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1642
تخریج حدیث اسناده ضعيف لإرساله، واسماعيل بن خالد مدلس وقد عنعن : أخرجه الترمذى، السير، باب ماجاء في كراهية المقام بين اظهر المشركين، رقم: 1605 ـ والنسائي، القسامة ، القود بغير حديدة (4784)۔