مسند الإمام الشافعي
كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة— قتل، قصاص، دیت اور قسامت (خون بہا) کا بیان
بَابٌ فِي قَتْلِ الْخَطَأِ فِي الْحَرْبِ باب: جنگ کے دوران غلطی سے قتل ہو جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ الْيَمَانِ شَيْخًا كَبِيرًا، فَرُفِعَ فِي الْآطَامِ مَعَ النِّسَاءِ يَوْمَ أُحُدٍ فَخَرَجَ يَتَعَرَّضُ لِلشَّهَادَةِ، فَجَاءَ مِنْ نَاحِيَةِ الْمُشْرِكِينَ، فَابْتَدَرُوهُ الْمُسْلِمُونَ، فَتَوَشَّقُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، وَحُذَيْفَةُ يَقُولُ: أَبِي أَبِي فَلَا يَسْمَعُونَ مِنْ شُغُلِ الْحَرْبِ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ [ ص: 307 ] حُذَيْفَةُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ. فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدِيَتِهِ.عروہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ ابو حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بوڑھے آدمی تھے۔ انہیں غزوہِ احد کے دن عورتوں کے ساتھ بلند جگہ میں ٹھہرایا گیا۔ وہ وہاں سے شہادت کے لیے نکلے۔ پھر مشرکین کی جانب سے (واپس) آئے تو مسلمانوں نے انہیں جلدی سے آ لیا اور اپنی تلواروں سے ان کو کاٹ ڈالا، جبکہ ان کے بیٹے حذیفہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام سے فرما رہے تھے: ”یہ میرا باپ ہے، یہ میرا باپ ہے!۔“ جنگ کے شعلوں کی وجہ سے انہوں نے ان کی ایک نہ سنی یہاں تک کہ ان کو قتل کر دیا۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے گناہ معاف کرے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“ پھر نبی ﷺ نے ان کی دیت کی ادائیگی کا فیصلہ دیا۔