مسند الإمام الشافعي
كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة— قتل، قصاص، دیت اور قسامت (خون بہا) کا بیان
بَابُ مَا فِي قَتْلِ الْعَمْدِ وَعَمْدِ الْخَطَأِ باب: قتلِ عمد (جان بوجھ کر) اور قتلِ شبہ عمد (غلطی سے مشابہ قتل) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1639
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ قَالَ: "مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ رَمْيًا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحِجَارَةٍ أَوْ جَلْدٍ بِالسَّوْطِ أَوْ ضَرْبٍ بِالْعَصَا، هُوَ خَطَأٌ عَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ. وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ، فَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ" .حافظ محمد فہد
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی بلوے میں مارا گیا، جو لڑنے والوں میں پتھر سے یا کوڑے سے یا چھڑی کی ضرب سے مارا گیا تو وہ قتلِ خطا ہے، اس کی دیت قتلِ خطا کی دیت ہے، اور جو ارادہ سے قتل کیا گیا تو اس (قاتل) نے اپنے ہاتھوں قصاص خرید لیا، اور جو کوئی اس میں حائل ہو گیا تو اس پر اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہے، نہ اس سے نفلی عبادت قبول کی جائے گی اور نہ فرضی۔“