مسند الإمام الشافعي
كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة— قتل، قصاص، دیت اور قسامت (خون بہا) کا بیان
بَابُ مَا فِي قَتْلِ الْعَمْدِ وَعَمْدِ الْخَطَأِ باب: قتلِ عمد (جان بوجھ کر) اور قتلِ شبہ عمد (غلطی سے مشابہ قتل) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1636
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ أَوْ عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ اغْتَبَطَ مُؤْمِنًا بِقَتْلٍ فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى وَلِيُّ الْمَقْتُولِ، فَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ" .حافظ محمد فہد
ابولیلیٰ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کو ناحق قتل کیا تو اس نے اپنے ہاتھوں قصاص خرید لیا الا یہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہو جائیں۔ اور جو کوئی اس میں حائل ہو گیا۔ تو اس پر اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہے، اللہ اس کا نہ نفل قبول کریں گے اور نہ ہی فرض۔“