حدیث نمبر: 1635
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِهَذِهِ الْأُمَّةِ: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ ص: 304 ] وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ [الْبَقَرَةِ: 178] ، مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ، فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ [الْبَقَرَةِ: 178] . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الدِّيَاتِ وَالْقِصَاصِ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
حافظ محمد فہد

مجاہد فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل پر قصاص فرض تھا اور ان میں دیت نہیں تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے یہ حکم فرمایا کہ ”تم پر مقتولوں کا قصاص فرض کر دیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے، اور جس کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے معافی دے دی گئی تو اسے بھلائی کے پیچھے لگنا ہے اور اچھے طریقے سے اسے دیت ادا کرنی ہے، یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔“ یہ اس کے مقابلے میں ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، ”پھر جس نے اس کے بعد زیادتی کی اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ (البقرة: 178)

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1635
تخریج حدیث اخرجه البخاري، التفسير ، باب ﴿يايها الذين امنوا كتب عليكم القصاص﴾ (4498)۔