حدیث نمبر: 1634
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُوسَى، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ مُقَاتِلٌ: أَخَذْتُ هَذَا التَّفْسِيرَ عَنْ نَفَرٍ حَفِظَ مُعَاذٌ مِنْهُمْ وَمُجَاهِدٌ وَالْحَسَنُ وَالضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ [الْبَقَرَةِ: 178] الْآيَةَ، قَالَ: كَانَ عَلَى أَهْلِ التَّوْرَاةِ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَنْ يُقَادَ بِهَا، وَلَا يُعْفَى عَنْهُ وَلَا تُقْبَلُ مِنْهُ الدِّيَةُ. وَفُرِضَ عَلَى أَهْلِ الْإِنْجِيلِ أَنْ يُعْفَى عَنْهُ وَلَا يُقْتَلُ وَرُخِّصَ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شَاءَ قَتَلَ، وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ وَإِنْ شَاءَ عَفَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ [الْبَقَرَةِ: 178] . يَقُولُ: الدِّيَةُ تَخْفِيفٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى إِذْ جَعَلَ الدِّيَةَ وَلَا يُقْتَلُ، ثُمَّ قَالَ: فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ [الْبَقَرَةِ: 178] . وَقَالَ فِي قَوْلِهِ: وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ [الْبَقَرَةِ: 179] يَنْتَهِي بِهَا بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ مَخَافَةَ أَنْ يُقْتَلَ.
حافظ محمد فہد

مقاتل نے بیان کیا کہ میں نے یہ تفسیر حفاظ کی ایک جماعت سے لی ہے جن میں معاذ، مجاہد، حسن اور ضحاک بن مزاحم شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ”جس کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے معافی دے دی جائے۔“ (البقرة: 178) کے متعلق فرمایا کہ اہلِ تورات پر کسی کو ناحق قتل کرنے پر قصاص فرض تھا، نہ انہیں درگز کی اجازت تھی اور نہ وہ دیت لے سکتے تھے۔ اور اہلِ انجیل پر معاف کر دینا فرض تھا، وہ قصاصاً قتل نہیں کر سکتے تھے۔ اور امتِ محمدیہ (علی صاحبہا الصلاۃ والسلام) کے لیے رخصت دی گئی، اگر چاہیں تو قتل کریں، اگر چاہیں تو دیت لیں اور اگر چاہیں تو معاف کر دیں، اور یہی اللہ کے فرمان: ”یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے“ کا مفہوم ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخفیف ہے، جب دیت لے لی تو قتل نہیں کیا جائے گا، پھر فرمایا: ”اور جو اس کے بعد سرکشی کرے اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ اور اللہ کے فرمان: ”تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔“ سے متعلق فرمایا کہ اس سے تم ایک دوسرے کو قتل کرنے سے، قصاصاً قتل ہو جانے کے خوف کی وجہ سے باز آجاتے ہو۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1634
تخریج حدیث اسناده ضعيف فان معاذ بن موسى مجهول وبكير بن معروف الأسدى لين: اخرجه البيهقي: 8/ 24 ، 51 ـ وفى المعرفة السنن والآثار له (4847)۔