حدیث نمبر: 1633
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضُدَ بِهَا شَجَرًا، فَإِنِ ارْتَخَصَ أَحَدٌ، فَقَالَ: أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِي وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَنْتُمْ يَا خُزَاعَةُ قَدْ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَأَنَا وَاللَّهِ عَاقِلُهُ. مَنْ قَتَلَ بَعْدَهُ قَتِيلًا فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ؛ إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الْعَقْلَ .
حافظ محمد فہد

ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے، اس کو لوگوں نے حرمت والا نہیں قرار دیا، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کے لیے جائز نہیں کہ اس میں کسی کا خون بہائے، نہ اس زمین کا کوئی درخت کاٹے اور اگر کوئی آدمی اپنے لیے رخصت نکالے تو فرمایا (اسے کہنا) یہ اللہ کے رسول ﷺ کے لیے حلال قرار دیا گیا، کیونکہ اللہ نے اس کو میرے لیے حلال قرار دیا ہے اور لوگوں کے لیے حلال قرار نہیں دیا، اور میرے لیے بھی دن کے تھوڑے حصے کے لیے حلال قرار دیا گیا، پھر یہ اسی طرح حرمت والا ہے جس طرح کل حرمت والا تھا۔ اے خزاعہ والو! یقیناً تم نے ہذیل قبیلے کے آدمی کو قتل کیا ہے، اور اللہ کی قسم! میں اس کی دیت دینے والا ہوں۔ اور جس نے بعد میں کسی کو قتل کیا تو اس کے ورثاء کو دو باتوں کا اختیار ہے، اگر چاہیں تو (قصاص میں) قتل کریں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1633
تخریج حدیث اخرجه البخاري جزاء الصيد، باب لا يعضد شجر الحرم (1832) ومسلم، الحج، باب تحريم مكة وتحريم صيدها وخلاها وشجرها .... الخ (1354)۔