مسند الإمام الشافعي
كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة— قتل، قصاص، دیت اور قسامت (خون بہا) کا بیان
بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الْعَقْلِ وَالْقَوَدِ باب: دیت (خون بہا) اور قصاص کے درمیان اختیار کا بیان۔
أَخْبَرَنِي أَبُو حَنِيفَةَ سِمَاكُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَامَ الْفَتْحِ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِنْ أَحَبَّ أَخَذَ الْعَقْلَ، وَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ الْقَوَدُ . فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ: أَتَأْخُذُ بِهَذَا يَا أَبَا الْحَارِثِ؟ فَضَرَبَ صَدْرِي، وَصَاحَ عَلَيَّ صِيَاحًا كَثِيرًا وَنَالَ مِنِّي، وَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: تَأْخُذُ بِهِ. نَعَمْ، آخُذُ بِهِ وَذَلِكَ الْفَرْضُ عَلَيَّ وَعَلَى مَنْ سَمِعَهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اخْتَارَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ فَهَدَاهُمْ بِهِ، عَلَى يَدَيْهِ وَاخْتَارَ لَهُمْ مَا اخْتَارَ لَهُ، عَلَى لِسَانِهِ فَعَلَى الْخَلْقِ أَنْ يَتَّبِعُوهُ طَائِعِينَ أَوْ دَاخِرِينَ، لَا مَخْرَجَ لِمُسْلِمٍ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: وَمَا سَكَتَ عَنِّي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ يَسْكُتَ.ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتحِ مکہ والے سال فرمایا: ”جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے، اگر چاہے تو دیت لے لے، اور اگر چاہے تو اس کے لیے قصاص ہے۔“ ابوحنیفہ نے کہا: میں نے ابن ابی ذئب سے کہا: اے ابوالحارث! کیا آپ اس حدیث کو لیں گے؟ (یعنی اس پر عمل کریں گے)۔ ابن ابی ذئب نے میرے سینے پر مارا اور مجھ پر خوب شور مچایا اور مجھے برا بھلا کہا اور فرمایا: میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث سناتا ہوں اور تو کہتا ہے کہ کیا آپ اس کو اختیار کریں گے؟ ہاں! میں اسے لوں گا اور یہ بات مجھ پر بھی اور ہر اس حدیث کو سننے والے پر فرض ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو لوگوں میں سے چنا اور ان کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دی، اور لوگوں کے لیے بھی وہی دین پسند کیا جو آپ ﷺ کے لیے کیا۔ لہذا مخلوق پر واجب ہے کہ وہ آپ ﷺ کی ہر حالت میں اتباع کریں، کیونکہ ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ابوحنیفہ نے کہا: آپ مجھے یہ باتیں کہتے کہتے خاموش نہیں ہوئے حتیٰ کہ میں نے تمنا کی کہ آپ خاموش ہو جائیں۔