حدیث نمبر: 1626
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا: هَلْ عِنْدَكُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِلَّا أَنْ يُؤْتَى عَبْدٌ فَهْمًا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قَالَ: "الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ" .
حافظ محمد فہد

ابو جحیفہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تمہارے پاس نبی ﷺ کی تعلیمات میں سے قرآن کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑا اور مخلوق کو پیدا کیا کچھ نہیں سوائے اس فہم کے جو کسی آدمی کو قرآن میں عطا کیا گیا اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے،“ میں نے پوچھا، صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا: ”دیت کے مسائل، قیدیوں کو چھڑوانے کے احکامات اور یہ کہ کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1626
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم (1625)۔