حدیث نمبر: 1625
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِلَّا أَنْ يُعْطِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَبْدًا فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي [ ص: 300 ] الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: "الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ" . وَفِي الْمَوْضِعِ الْآخَرِ: لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ.
حافظ محمد فہد

ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا، میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کوئی چیز قرآن کے علاوہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو نکالا اور مخلوق کو پیدا کیا، ہمارے پاس کچھ نہیں۔ سوائے اس فہم کے جو اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنی کتاب میں دے دے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔“ میں نے پوچھا اس صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا: ”دیت کے احکام، قیدیوں کو چھڑوانے کے احکام اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے گا۔“ دوسری جگہ میں ہے کہ ”کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1625
تخریج حدیث اخرجه البخارى الديات، باب لا يقتل المسلم بالكافر (46915)۔