مسند الإمام الشافعي
كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة— قتل، قصاص، دیت اور قسامت (خون بہا) کا بیان
بَابُ الْوَفَاءِ لِأَهْلِ الذِّمَّةِ وَالْقِصَاصِ لَهُمْ باب: ذمیوں (غیر مسلم شہریوں) سے عہد کی وفاء اور ان کے قصاص کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَنُوبِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، قَالَ: فَقَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ فَجَاءَ أَخُوهُ، قَالَ: إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ، فَقَالَ: لَعَلَّهُمْ هَدَّدُوكَ أَوْ فَرَّقُوكَ أَوْ فَزَّعُوكَ. قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ قَتْلَهُ لَا يَرُدُّ عَلَيَّ أَخِي، وَعَوَّضَنِي فَرَضِيتُ، قَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ. مَنْ كَانَ لَهُ ذِمَّتُنَا فَدَمُهُ كَدَمِنَا وَدِيَتُهُ كَدِيَتِنَا. [ ص: 299 ] أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الدِّيَاتِ وَالْقِصَاصِ.ابو الجنوب اسدی نے بیان فرمایا کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس مسلمانوں میں سے ایک آدمی لایا گیا جس نے ذمیوں میں سے ایک آدمی کو قتل کیا تھا۔ جب اس کے اوپر گواہی قائم ہو گئی تو آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا، تو مقتول کا بھائی آگیا اور اس نے کہا: ”میں نے اسے معاف کر دیا۔“ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شاید انہوں نے تجھے ڈرایا دھمکایا ہے یا تجھے پریشان کیا ہے۔“ اس نے کہا: ”نہیں، لیکن اس کو قتل کر دینے سے میرا بھائی تو واپس نہیں آئے گا، انہوں نے مجھے دیت دے دی اور میں راضی ہو گیا۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو بہتر جانتا ہے، ہاں جس کی ہم پر ذمہ داری ہے اس کا خون ہمارے خون کی مانند اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے۔“