مسند الإمام الشافعي
كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة— قتل، قصاص، دیت اور قسامت (خون بہا) کا بیان
بَابُ حُسْنِ الْقِتْلَةِ باب: اچھے طریقے سے قتل (قصاص یا ذبح) کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1617
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي ابْنِ مُلْجَمٍ بَعْدَ مَا ضَرَبَهُ: أَطْعِمُوهُ وَاسْقُوهُ وَأَحْسِنُوا إِسَارَهُ، فَإِنْ عِشْتُ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي أَعْفُو إِنْ شِئْتُ، وَإِنْ شِئْتُ اسْتَقَدْتُ، وَإِنْ مِتُّ فَقَتَلْتُمُوهُ فَلَا تُمَثِّلُوا. [ ص: 296 ] أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ.حافظ محمد فہد
جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم سے متعلق فرمایا جب اس نے ان کو زخمی کیا: ”اس کو کھلاؤ پلاؤ اور اچھے طریقے سے قید کر کے رکھو، اگر میں زندہ رہا تو میں اپنے خون کا ولی ہوں، اگر چاہوں تو معاف کر دوں، اور اگر چاہوں تو انتقام لے لوں، اور اگر میں شہید ہو جاؤں تو تم اس کو قتل کر دینا، اس کا مثلہ نہ کرنا۔“