مسند الإمام الشافعي
كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة— قتل، قصاص، دیت اور قسامت (خون بہا) کا بیان
بَابُ حُسْنِ الْقِتْلَةِ باب: اچھے طریقے سے قتل (قصاص یا ذبح) کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1616
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَرَّقَ الْمُرْتَدِّينَ أَوِ الزَّنَادِقَةَ قَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ وَلَقَتَلْتُهُمْ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ" ، وَلَمْ أُحْرِقْهُمْ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ" .حافظ محمد فہد
عکرمہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ خبر پہنچی کہ علی رضی اللہ عنہ نے مرتد اور بے دین لوگوں کو جلا دیا ہے، تو فرمایا: ”اگر میں (ان کی جگہ) ہوتا تو میں ان کو نہ جلواتا، البتہ میں ان کو قتل کر دیتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”جو اپنا دین (اسلام) بدل ڈالے اس کو قتل کر دو۔“ اور میں انہیں نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ کے عذاب سے کسی کو عذاب دے۔“