مسند الإمام الشافعي
كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة— قتل، قصاص، دیت اور قسامت (خون بہا) کا بیان
بَابُ حُسْنِ الْقِتْلَةِ باب: اچھے طریقے سے قتل (قصاص یا ذبح) کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1615
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقٍّ سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ قَتْلِهِ" . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: "أَنْ يَذْبَحَهَا فَيَأْكُلَهَا وَلَا يَقْطَعَ رَأْسَهَا فَيَرْمِيَ بِهَا" .حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چڑیا یا اس سے بھی ہلکی چیز کو ناحق قتل کیا تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کے قتل کے بارے میں پوچھیں گے۔“ پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کا حق کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ذبح کرے پھر اسے کھائے اور اس کا سر نہ کاٹے کہ پھر اس سے نشان بازی کرے۔“