حدیث نمبر: 1608
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ [ ص: 291 ] بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِي، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ أَبِي مُوسَى، فَسَأَلَهُ عَنِ النَّاسِ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ كَانَ فِيكُمْ مِنْ مُغَرَّبَةِ خَبَرٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، قَالَ: فَمَا فَعَلْتُمْ بِهِ؟ قَالَ: قَرَّبْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: فَهَلَّا حَبَسْتُمُوهُ ثَلَاثًا وَأَطْعَمْتُمُوهُ كُلَّ يَوْمٍ رَغِيفًا وَاسْتَتَبْتُمُوهُ لَعَلَّهُ يَتُوبُ وَيُرَاجِعُ أَمْرَ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ أَحْضُرْ وَلَمْ أَرْضَ وَلَمْ آمُرْ إِذْ بَلَغَنِي. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ.
حافظ محمد فہد

عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک آدمی آیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہاں کے لوگوں کا حال پوچھا تو اس نے بتایا۔ پھر پوچھا: ”کیا کوئی ایسی خبر ہے جو دور دراز کے علاقوں سے متعلق ہو؟“ تو اس آدمی نے کہا: ”ہاں، ایک آدمی اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟“ اس نے کہا: ”ہم نے اسے پکڑا اور اس کی گردن مار دی۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے اسے تین دن تک قید کیوں نہ کیا، اور تم اسے ہر روز ایک روٹی دیتے اور اس سے توبہ کرواتے، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ کا حکم مان لیتا۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ! نہ میں وہاں موجود تھا،نہ میں اس خبر سے خوش ہوں اور نہ میں نے حکم دیا جبکہ مجھے معلوم ہوا۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة / حدیث: 1608
تخریج حدیث اسناده ضعیف: اخرجه البيهقي: 206/8 ، 207 - وفي المعرفة السنن والآثار له (5032) ۔ والطحاوفي شرح المعانى: (3/ 211)۔