مسند الإمام الشافعي
كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة— قتل، قصاص، دیت اور قسامت (خون بہا) کا بیان
بَابُ مَا يَحْرُمُ بِهِ الْقَتْلُ باب: ان وجوہ کا بیان جن سے قتل حرام ہوتا ہے
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ: أَنَّ رَجُلًا سَارَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَدْرِ مَا سَارَّهُ بِهِ حَتَّى جَهَرَ [ ص: 288 ] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْمِرُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ. قَالَ: "أَلَيْسَ يُصَلِّي" ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَا صَلَاةَ لَهُ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ" .عبید اللہ بن عدی بن خیار سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کی، ہمیں نہیں پتہ چلا کہ اس نے آپ ﷺ سے کیا سرگوشی کی، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے بلند آواز میں فرمایا تو معلوم ہوا گویا وہ منافقین میں سے ایک آدمی کو قتل کرنے کا مشورہ طلب کر رہا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں؟“ اس آدمی نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کی گواہی اسے فائدہ نہیں دے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ اس آدمی نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کی نماز اس کے لیے مفید نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہی وہ لوگ ہیں جن کو قتل کرنے سے اللہ نے مجھے روکا ہے۔“