مسند الإمام الشافعي
كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة— قتل، قصاص، دیت اور قسامت (خون بہا) کا بیان
بَابُ مَا يَحْرُمُ بِهِ الْقَتْلُ باب: ان وجوہ کا بیان جن سے قتل حرام ہوتا ہے
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، عَنِ الْمِقْدَادِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ للَّهِ، أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَقْتُلْهُ" ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَطَعَ يَدِي، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا، أَفَأَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَقْتُلْهُ؛ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ" .مقداد رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر میری کسی کافر سے ٹکر ہو، اور وہ مجھ سے قتال کرے پھر وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دے، پھر وہ مجھ سے بھاگ کر ایک درخت کی پناہ میں ہو کر کہے: ”میں اللہ پر ایمان لے آیا“، تو کیا اے اللہ کے رسول! میں اس کے اس اقرار کے بعد بھی اسے قتل کر دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے قتل نہ کرو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹا ہے، پھر اس نے یہ بات ہاتھ کاٹنے کے بعد کہی ہے تو کیا میں اسے قتل کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل نہ کرو، اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا اب اس کا ہے اور (اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو) تمہارا مقام وہ ہوگا جو اس کا اس کلمہ کے اقرار سے پہلے تھا۔“