مسند الإمام الشافعي
كتاب الحدود— شرعی حدود (سزاؤں) کا بیان
بَابٌ فِي أَهْلِ اللِّقَاحِ وَقُطَّاعِ الطَّرِيقِ وَالْمُحَارِبِ باب: راہزنوں، ڈاکوؤں اور (اسلامی ریاست سے) جنگ کرنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 1600
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ أَوْ لَهُ كَيْفَ شَاءَ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: إِلَّا قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [الْمَائِدَةِ: 33] . فَلَيْسَ بِمُخَيَّرٍ فِيهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَمَا قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [الْمَائِدَةِ: 33] . فِي الْمُحَارِبِ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ أَقُولُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْقَطْعِ فِي السَّرِقَةِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.حافظ محمد فہد
عمرو بن دینار نے بیان فرمایا کہ ہر چیز قرآن میں ہے یا اس کے لیے ہے جیسے اس نے چاہا، ابن جریج نے کہا سوائے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”بے شک سزا ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں۔“ (المائدہ : 33) کہ اس میں اختیار نہیں دیا گیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اس طرح فرمایا جس طرح کہ ابن جریج وغیرہ نے کہا ہے: ”بے شک سزا ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں۔“ (المائدہ : 33) میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں لڑائی کرنے والے کے متعلق ہے۔