مسند الإمام الشافعي
كتاب الحدود— شرعی حدود (سزاؤں) کا بیان
بَابٌ فِي أَهْلِ اللِّقَاحِ وَقُطَّاعِ الطَّرِيقِ وَالْمُحَارِبِ باب: راہزنوں، ڈاکوؤں اور (اسلامی ریاست سے) جنگ کرنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 1599
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قُطَّاعِ الطَّرِيقِ: إِذَا قَتَلُوا وَأَخَذُوا الْمَالَ قُتِّلُوا وَصُلِّبُوا، وَإِذَا قَتَلُوا وَلَمْ يَأْخُذُوا الْمَالَ قُتِّلُوا وَلَمْ يُصَلَّبُوا، وَإِذَا أَخَذُوا الْمَالَ وَلَمْ يَقْتُلُوا قُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ. وَإِذَا أَخَافُوا السَّبِيلَ وَلَمْ يَأْخُذُوا مَالًا نُفُوا مِنَ الْأَرْضِ.حافظ محمد فہد
صالح مولیٰ توامہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ڈاکوؤں کے متعلق مروی ہے کہ جب وہ قتل و غارت کریں اور مال بھی لوٹیں تو انہیں قتل بھی کیا جائے گا اور سولی بھی دی جائے گی، اور جب وہ قتل و غارت کریں اور مال نہ لوٹیں تو انہیں قتل کیا جائے گا انہیں سولی نہیں دی جائے گی، اور جب مال لوٹیں البتہ قتل و غارت نہ کریں تو ان کے مخالف سمت سے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں گے، اور جب وہ مسافروں کو خوفزدہ کریں ان سے مال نہ لوٹیں تو انہیں جلا وطن کر دیا جائے گا۔