مسند الإمام الشافعي
كتاب الحدود— شرعی حدود (سزاؤں) کا بیان
بَابٌ مِنْهُ فِي الْقَطْعِ وَمُضَاعَفَةِ غُرْمِ الْعَاقِلَةِ باب: چوری میں ہاتھ کاٹنے اور عاقلہ (قبیلے) پر تاوان کے دوگنا ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1593
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عَبْدًا لَهُ سَرَقَ وَهُوَ آبِقٌ، فَأَبَى سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ أَنْ يَقْطَعَهُ فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عُمَرَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے بھاگے ہوئے غلام نے چوری کی تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ (حاکمِ مدینہ) نے اس کا ہاتھ کاٹنے سے انکار کر دیا۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔