مسند الإمام الشافعي
كتاب الحدود— شرعی حدود (سزاؤں) کا بیان
بَابُ إِذَا وَصَلَ الْحَدُّ إِلَى الْإِمَامِ لَمْ يَبْقَ فِيهِ عَفْوٌ باب: جب معاملہ حاکم تک پہنچ جائے تو پھر (حد میں) معافی نہیں
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قِيلَ لَهُ: مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ. فَقَدِمَ صَفْوَانُ الْمَدِينَةَ، فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ مُتَوَسِّدًا رِدَاءَهُ. فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ فَجَاءَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ يَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا، هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ" .صفوان بن عبد اللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: ”جس نے ہجرت نہیں کی وہ تباہ ہو گیا۔“ تو صفوان رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے اور اپنی چادر سر کے نیچے رکھ کر مسجد میں سو گئے۔ ایک چور آیا اور ان کے سر کے نیچے سے چادر نکال لی، صفوان رضی اللہ عنہ نے چور کو پکڑ لیا اور اسے نبی ﷺ کے پاس لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر صفوان رضی اللہ عنہ نے (ترس کھا کر) عرض کیا: ”میری نیت یہ نہ تھی، وہ چادر اس پر صدقہ ہے۔“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس لانے سے پہلے تو نے یہ کیوں نہ کیا؟“