مسند الإمام الشافعي
كتاب الحدود— شرعی حدود (سزاؤں) کا بیان
بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَقِيمَةِ مَا فِيهِ الْقَطْعُ باب: چوری کی حد اور اس مال کی مالیت جس پر ہاتھ کٹتا ہے
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَكَّةَ شَرَّفَهَا اللَّهُ تَعَالَى وَمَعَهَا مَوْلَاتَانِ وَغُلَامٌ لِابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَبَعَثَتْ مَعَ مَوْلَاتَيْنِ بِبُرْدٍ مُرَجَّلٍ قَدْ خِيطَتْ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ خَضْرَاءُ. قَالَتْ: فَأَخَذَ الْغُلَامُ الْبُرْدَ فَفَتَقَ عَنْهُ فَاسْتَخْرَجَهُ وَجَعَلَ مَكَانَهُ لِبْدًا أَوْ فَرْوَةً، وَخَاطَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَوْلَاتَانِ الْمَدِينَةَ دَفَعَتَا ذَلِكَ إِلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا فَتَقُوا عَنْهُ وَجَدُوا فِيهِ اللِّبْدَ وَلَمْ يَجِدُوا فِيهِ الْبُرْدَ، فَكَلَّمُوا الْمَوْلَاتَيْنِ فَكَلَّمَتَا عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَتْ يَدَهُ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ کی طرف نکلیں تو ان کے ساتھ دو آزاد کردہ لونڈیاں اور عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے بیٹے کا غلام تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں لونڈیوں کے ہاتھ ایک چادر بھیجی جس پر نقش و نگار تھے، اور اسے ایک سبز کپڑے میں لپیٹ کر سی دیا تھا۔ عمرہ نے کہا: (راستے میں) غلام نے سلائی ادھیڑ کر اس سے چادر نکال لی اور اس کی جگہ ایک تھیلا یا پوستین رکھ دی، اور اسے دوبارہ سی دیا۔ جب وہ دونوں لونڈیاں مدینہ پہنچیں تو انہوں نے وہ امانت گھر والوں کے حوالے کی۔ جب انہوں نے سلائی ادھیڑ کر دیکھا تو اس میں چادر کی بجائے پوستین پائی، انہوں نے لونڈیوں سے پوچھا، تو انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو (غلام پر شک کی) بات کی۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور فرمایا: ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔“