مسند الإمام الشافعي
كتاب الحدود— شرعی حدود (سزاؤں) کا بیان
بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَقِيمَةِ مَا فِيهِ الْقَطْعُ باب: چوری کی حد اور اس مال کی مالیت جس پر ہاتھ کٹتا ہے
حدیث نمبر: 1586
قَالَ مَالِكٌ: وَهِيَ الْأُتْرُجَّةٌ الَّتِي يَأْكُلُهَا النَّاسُ. أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ: أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ يَسْأَلُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْقَطْعِ، فَقَالَ أَنَسٌ: حَضَرْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَطَعَ سَارِقًا فِي شَيْءٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ.حافظ محمد فہد
حمید الطویل سے روایت ہے کہ انہوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے سنا وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہاتھ کاٹنے کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے ایک چور کا ہاتھ ایسی چیز کے بدلے کاٹا جو میں تین درہم کے عوض بھی لینا پسند نہیں کرتا۔“