حدیث نمبر: 1582
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ يَحْيَى بْنَ حَاطِبٍ حَدَّثَهُ قَالَ: تُوُفِّيَ حَاطِبٌ، فَأَعْتَقَ مَنْ صَلَّى مِنْ رَقِيقِهِ وَصَامَ، وَكَانَتْ لَهُ أَمَةٌ نُوبِيَّةٌ قَدْ صَلَّتْ وَصَامَتْ وَهِيَ أَعْجَمِيَّةٌ، فَلَمْ تَرُعْهُ إِلَّا بِحَبَلِهَا، وَكَانَتْ ثَيِّبًا، فَذَهَبَ إِلَى عُمَرَ، فَحَدَّثَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: لَأَنْتَ الرَّجُلُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ، وَأَفْزَعَهُ ذَلِكَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا عُمَرُ، فَقَالَ: أَحَبِلْتِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ مِنْ مَرْعُوشٍ بِدِرْهَمَيْنِ، فَإِذَا هِيَ تَسْتَهِلُّ بِذَلِكَ لَا تَكْتُمُهُ. قَالَ: وَصَادَفَهُ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ: أَشِيرُوا عَلَيَّ، فَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَالِسًا فَاضْطَجَعَ، فَقَالَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قَدْ وَقَعَ عَلَيْهَا الْحَدُّ. فَقَالَ: أَشِرْ عَلَيَّ يَا عُثْمَانُ، فَقَالَ: قَدْ أَشَارَ عَلَيْكَ أَخَوَاكَ. فَقَالَ: أَشِرْ عَلَيَّ أَنْتَ. فَقَالَ: أَرَاهَا تَسْتَهِلُّ بِهِ [ ص: 276 ] كَأَنَّهَا لَا تَعْلَمُهُ، وَلَيْسَ الْحَدُّ إِلَّا عَلَى مَنْ عَلِمَهُ. فَقَالَ: صَدَقْتَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا الْحَدُّ إِلَّا عَلَى مَنْ عَلِمَهُ، فَجَلَدَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِائَةً وَغَرَّبَهَا عَامًا. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد

یحییٰ بن حاطب نے بیان کیا کہ حاطب فوت ہوئے تو انہوں نے اپنے غلاموں میں سے جس نے نماز پڑھی اور روزے رکھے اسے آزاد کر دیا، ان کی ایک نوبیہ لونڈی بھی تھی جس نے نماز بھی پڑھی اور روزے بھی رکھے اور یہ عجمی تھی، اس کے حمل نے انہیں پریشان کر دیا۔ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں یہ بات بتائی تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، تو کبھی بھی اچھی خبر نہیں لایا اور اس بات نے انہیں پریشان کر دیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس لونڈی کی طرف پیغام بھیج کر پوچھا، کیا تو حاملہ ہے؟ اس نے کہا، ہاں مرعوش سے دو درہم کے عوض (زنا کرنے کی وجہ سے)۔ گویا وہ اس معاملہ کو نہ جاننے کی وجہ سے نہیں چھپا رہی تھی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کا سامنا علی، عثمان اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم سے ہوا تو فرمایا، مجھے مشورہ دو۔ عثمان رضی اللہ عنہ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، علی اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اس پر حد نافذ ہوگی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اے عثمان آپ مجھے مشورہ دیں، تو انہوں نے فرمایا: آپ کو آپ کے دو بھائیوں نے مشورہ دیا تو ہے۔ اس پر فرمایا: مجھے آپ مشورہ دیں۔ تو انہوں نے فرمایا: میرے خیال میں وہ اس معاملہ کو نہ جاننے کی وجہ سے آسان سمجھتی ہے اور حد کا نفاذ تو اسی پر ہوگا جو اس کی حرمت کو جانتا ہو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، آپ نے درست کہا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے حد صرف جاننے والے پر ہے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحدود / حدیث: 1582
تخریج حدیث اسناده ضعيف جدا، لضعف مسلم بن خالد الزنجى و لعنعنة ابن جريج ولا نقطاعه فان يحي بن عبدالرحمن بن حاطب لم يسمع من عمر اخرجه البيهقي: 8/ 238 ، 239 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5093)۔ وعبد الرزاق (13644)۔