مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابُ الْأَوْقَاتِ الْمَنْهِيِّ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا باب: وہ اوقات جن میں نماز پڑھنا منع ہے
حدیث نمبر: 158
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَنَهَاهُ عَنْهُمَا، قَالَ طَاوُسٌ، فَقُلْتُ: مَا أَدَعُهُمَا! فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا [الْأَحْزَابِ: 36] . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَهِيَ أَوَّلُ مَا فِيهِ وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ إِيجَابِ الْجُمُعَةِ وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.حافظ محمد فہد
عامر بن مصعب روایت کرتے ہیں کہ طاؤس نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ان کو منع فرمایا، طاؤس نے کہا، میں تو پڑھوں گا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن کی آیت تلاوت فرمائی کہ کسی مومن مرد و عورت کے لیے اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے فیصلے کے بعد کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ [الاحزاب: 36]