مسند الإمام الشافعي
كتاب الحدود— شرعی حدود (سزاؤں) کا بیان
بَابُ حَدِّ الزِّنَا باب: زنا کی حد (سزا) کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَاهُ رَجُلٌ وَهُوَ بِالشَّامِ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ إِلَى امْرَأَتِهِ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَاهَا وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ حَوْلَهَا، فَذَكَرَ لَهَا الَّذِي قَالَ زَوْجُهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا لَا تُؤْخَذُ بِقَوْلِهِ، وَجَعَلَ يُلَقِّنُهَا أَشْبَاهَ ذَلِكَ لِتَنْزِعَ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْزِعَ، وَثَبَتَتْ عَلَى الِاعْتِرَافِ، فَأَمَرَ [ ص: 273 ] بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرُجِمَتْ.ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام میں تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کو اس کی بیوی کے پاس اس سے متعلق دریافت کرنے کے لیے بھیجا، جب وہ اس کے پاس آئے تو اس کے پاس اور بھی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، انہوں نے اسے وہ بات بتائی جو اس کے خاوند نے اس کے متعلق عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہی تھی۔ اور ساتھ ہی اسے یہ بھی بتایا کہ صرف اسی کی بات پر مواخذہ نہیں ہوگا۔ اور اسی طرح کی باتوں سے اسے تلقین کرنے لگے تاکہ وہ اس کی بات سے اختلاف کرے، لیکن اس نے اختلاف کرنے سے انکار کر دیا اور اقرار پر قائم رہی۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔