حدیث نمبر: 1576
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَأَبِي الزِّنَادِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ: أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: أَحَدُهُمَا أَحْبَنُ، وَقَالَ الْآخَرُ: مُقْعَدٌ كَانَ عِنْدَ جِوَارِ سَعْدٍ، فَأَصَابَ امْرَأَةً حَبَلٌ، فَرُمِيَتْ بِهِ، فَسُئِلَ، فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ قَالَ [ ص: 272 ] أَحَدُهُمَا: فَجُلِدَ بِإِثْكَالِ النَّخْلِ، وَقَالَ الْآخَرُ: بِأُثْكُولِ النَّخْلِ.
حافظ محمد فہد

ابوامامہ بن سہل بن حنیف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا ان میں سے ایک بڑے پیٹ والا تھا اور دوسرے نے کہا اپاہج (معذور) جو سعد رضی اللہ عنہ کے پڑوس میں رہتا تھا، اس نے ایک عورت سے زنا کیا اور وہ حاملہ ہوگئی۔ اس عورت پر اس سے زنا کی تہمت لگائی گئی، جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے اعتراف کر لیا، پھر نبی ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا۔ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اسے کھجور کی ایک ڈالی (جس میں سو ٹہنیاں تھیں) سے مارا گیا، اور دوسرے نے ”إثکال“ کی بجائے ”أثکول“ بیان کیا (یہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں)۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحدود / حدیث: 1576
تخریج حدیث صحيح من غير هذا الطريق اخرجه ابو داود، الحدود، باب في اقامة الحد على المريض (4472) وابن ماجة الحدود، باب الكبير والمريض يجب عليه الحد (2574) وصححه ابن الجارود (817)۔