حدیث نمبر: 1574
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ: أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: "تَكَلَّمْ" ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَا بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمَائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا [ ص: 271 ] الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
حافظ محمد فہد

ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے اپنا جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا، ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے درمیان آپ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اور دوسرے نے کہا (جو ان دونوں میں سے زیادہ سمجھدار تھا): ٹھیک ہے اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے مابین فیصلہ اللہ کی کتاب سے کیجیے اور مجھے اس معاملے میں کچھ بات کرنے کی اجازت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو۔“ اس آدمی نے کہا: میرا بیٹا ان کے ہاں مزدور تھا، اس نے ان کی بیوی سے زنا کر لیا۔ مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا، تو میں نے اس کے بدلے انہیں سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیہ میں دے دی۔ پھر میں نے اہلِ علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور رجم کی سزا اس کی بیوی کے لیے ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان فیصلہ اللہ کی کتاب سے کروں گا، تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تجھے واپس کی جائے گی۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا، اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں، اگر اس نے اقرار کیا تو اسے رجم کر دیں، اس عورت نے اعتراف کر لیا اور رجم کر دی گئی۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحدود / حدیث: 1574
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم (1573)۔