مسند الإمام الشافعي
كتاب الحدود— شرعی حدود (سزاؤں) کا بیان
بَابُ حَدِّ الزِّنَا باب: زنا کی حد (سزا) کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِيَّاكُمْ أَنْ تَهْلِكُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: لَا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، لَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَكَتَبْتُهَا: (الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ) ، فَإِنَّا قَدْ قَرَأْنَاهَا.سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ڈرو اس بات سے کہ تم رجم کی آیت کو بھلا دو اور (زیادہ وقت گزرنے پر) کوئی کہنے والا کہے کہ ہم قرآن میں دو حدیں نہیں پاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا اور ہم نے بھی سنگسار کیا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی کتاب میں زیادتی کر دی ہے، تو میں یہ لکھوا دیتا کہ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت (جب زنا کریں) تو انہیں رجم کر دو، بے شک ہم نے اس کو پڑھا ہے۔“